أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے ذی الحجہ کے مہینے کا چاند دیکھا پھر قربانی کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنے بال اور ناخن قربانی کرنے تک نہ لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأضاحی ٣ (١٩٧٧) ، سنن ابی داود/الضحایا ٣ (٢٧٩١) ، سنن الترمذی/الضحایا ٢٤(١٥٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الضحایا ١١ (٣١٥٠) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٥٢) مسند احمد ٦/٢٨٩، ٣٠١، ٣١١، سنن الدارمی/الأضاحی ٢ (١٩٩٠) ، ویأتی برقم : ٤٣٦٧-٤٣٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بال اور ناخن وغیرہ کچھ نہ کاٹے، جمہور کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4361