أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَيَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، قَالُوا: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: حَدِّثْنِي مَا كَرِهَ، أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مِنَ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ): أَرْبَعَةٌ لَا يَجْزِينَ فِي الْأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي. قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْقَرْنِ، وَالْأُذُنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ.
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے کہا : مجھے بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ کو کن کن جانوروں کی قربانی ناپسند تھی، یا آپ ان سے منع فرماتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے (اور اس طرح انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، اور میرا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے) : چار جانوروں کی قربانی درست اور صحیح نہیں ہے : کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، اور دبلا اور کمزور جس میں گودا نہ ہو ، انہوں نے کہا : مجھے ناپسند ہے کہ اس جانور کے سینگ اور کان میں کوئی عیب ہو، انہوں نے کہا : جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو لیکن کسی اور کو اس سے مت روکو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4370