أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) أَعْطَاهُ غَنَمًا يُقَسِّمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ.
عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے بکریاں دیں، صرف ایک سال کی بکری بچ رہی۔ اس کا ذکر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ تو آپ نے فرمایا : تم اسے ذبح کرلو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوکالة ١ (٢٣٠٠) ، الشرکة ١٢ (٢٥٠٠) ، الأضاحی ٧ (٥٥٥٥) ، صحیح مسلم/الأضاحي ١ (١٩٦٥) ، سنن الترمذی/الأضاحي ٧ (١٥٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٧ (٣١٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٥٥) ، مسند احمد (٤/١٤٩، ١٥٢) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٤ (١٩٩٧) ، ویأتی فیما یلی : ٤٣٨٥، ٤٣٨٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عتود ایک سال کی بکری کو کہتے ہیں۔ جذعہ بھی اسی معنی میں ہے، پس اگلی دونوں روایتوں میں جو جذعہ کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے جذع ۃ من المعز یعنی بکری کا ایک سالہ بچہ۔ نبی اکرم ﷺ نے عقبہ یا ابوبردہ (رض) کو مجبوری کے تحت ایک سال کی بکری کی اجازت خصوصی طور سے دی تھی ورنہ قربانی میں اصل دانتا ہوا جانور ہی جائز ہے جیسا کہ حدیث نمبر : ٤٢٨٣ میں گزرا۔ ٢ ؎: تم اسے ذبح کرلو یعنی صرف تمہارے لیے جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4379