أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ) قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمَيْنِ نُعْطِي الْجَذَعَتَيْنِ بِالثَّنِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مَا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ.
کلیب ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : ہم عید الاضحی سے دو دن پہلے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، ہم دو جذعے دے کر ثنیہ یعنی مسنہ لے رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جذعہ بھی اس کام کے لیے کافی ہے جس کے لیے ثنیہ یعنی مسنہ کافی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4384