أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ (ﷺ)،فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ (ﷺ) أَنْ يُعِيدَ، قَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ، هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، قَالَ: اذْبَحْهَا. فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ.
ابوبردہ بن نیار (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے ذبح کیا تو آپ ﷺ نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا : میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے، آپ نے فرمایا : اسی کو ذبح کر دو ۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٧٢٢) ، موطا امام مالک/الضحایا ٣ (٤) ، مسند احمد (٣/٤٦٦ و ٤/٤٥) ، سنن الدارمی/الأضاحی ٧ (٢٠٠٦) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے متفق علیہ ثابت ہے، خود مؤلف کے یہاں ١٥٦٤ اور ٤٤٠٠ پر گزری ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4397