أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ، وَاللَّبَّةِ ؟، قَالَ: لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ.
ابو العشراء کے والد (مالک دارمی رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح ذکا ۃ صرف حلق اور سینے میں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اگر تم اس کی ران میں بھی کونچ دو تو کافی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأضاحی ١٦(٢٨٢٥) ، سنن الترمذی/الصید ١٣(١٤٨١) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩(٣٨١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٩٤) ، مسند احمد (٤/٣٣٤) ، سنن الدارمی/الأضاحی ١٢ (٢٠١٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابوالعشراء “ مجہول ہیں، لیکن حدیث نمبر ٤٣٠٢ سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4408