أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ (ﷺ): مَنِ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً أَوْ مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی محفلہ یا مصرا ۃ (دودھ تھن میں روکے ہوئے جانور کو) خریدا تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر وہ اسے روکے رکھنا چاہے تو روک لے اور اگر لوٹانا چاہے تو اسے لوٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے، گیہوں کا دینا ضروری نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ٤ (١٥٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٤٣٥) ، مسند احمد (٢/٢٨٤) (صحیح) (” ثلاثة أيام “ تین دن کی تحدید ثابت نہیں ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے : سنن ابن ماجہ ٢٢٣٩، وسنن ابی داود ٣٤٤٤ (اس میں تصحیح کرلیں) وتراجع الالبانی ٣٣٧ ) قال الشيخ الألباني : صحيح م خ نحوه دون ثلاثة أيام صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4489