أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ؟، قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی آگے جا کر تجارتی قافلے سے ملے، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے، (راوی طاؤس کہتے ہیں :) میں نے ابن عباس سے کہا : اس قول کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے کہا : یعنی شہری دلال نہ بنے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٦٨ (٢١٥٨) ، ٧١ (٢١٦٣) ، الإجارة ١٤ (٢٢٧٤) ، صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢١) ، سنن ابی داود/البیوع ٤٧ (٣٤٣٩) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٥ (٢١٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٠٦) ، مسند احمد (١/٣٦٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4500