أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ الْمُزَابَنَةِ، أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَإِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ میں لگے پھل کو بیچے، اگر وہ کھجور ہو تو نپی ہوئی کھجور سے بیچے، اور اگر انگور ہو تو اسے نپے ہوئے خشک انگور (منقیٰ یا کشمش) سے بیچے، اور اگر کھڑی کھیتی (فصل) ہو تو اسے نپے ہوئے اناج سے بیچے ۔ آپ نے ان تمام اقسام کی بیع سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٩١ (٢٢٠٥) ، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤٢) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٤ (٢٢٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٧٣) ، مسند احمد (٢/١٢٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4549