أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرُ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا، هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا (ﷺ) إِلَيْنَا.
عمر (رض) کہتے ہیں کہ دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم کی بیع میں کمی زیادتی جائز نہیں، یہ ہم سے نبی اکرم ﷺ کا عہد ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٣٩٨) (صحیح) (مجاہد کا عمر رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی آپ نے اس کا ہمیں حکم دیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4568