أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تَقْصُرُ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ سورة النساء آية 101 ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)أَتَانَا وَنَحْنُ ضُلَّالٌ فَعَلَّمَنَا، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنَا أَنْ نُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ. قَالَ الشُّعَيْثِيُّ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز (بغیر خوف کے) کیسے قصر کرتے ہیں ؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے : فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں (النساء : ١٠١ ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا : بھتیجے ! رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة ٧٣ (١٠٦٦) ، مسند احمد ٢/٩٤، ١٤٨، ویأتي عند المؤلف (برقم : ١٤٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 457