أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، أَوِ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں چاندی کے بدلے سونا یا سونے کے بدلے چاندی بیچتا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم اپنے ساتھی سے بیچو تو اس سے الگ نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان کوئی چیز باقی رہے (یعنی حساب بےباق کر کے الگ ہو) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4583