أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ (ﷺ) الْمَدِينَةَ، دَعَا بِمِيزَانٍ فَوَزَنَ لِي وَزَادَنِي.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے ترازو منگا کر اس سے مجھے تول کردیا اور مجھے اس سے کچھ زیادہ دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٥٩ (٤٤٣) ، الوکالة ٨ (٢٣٠٩) ، الاستقراض ٧ (٢٣٩٤) ، الہبة ٣٢ (٣٦٠٣، ٣٦٠٤) ، صحیح مسلم/المسافرین ١١ (٧١٥) ، سنن ابی داود/البیوع ١١(٣٣٤١) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٧٨) ، مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٠٢، ٣٦٣) سنن الدارمی/البیوع ٤٦ (٢٦٢٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اگر بغیر شرط کے خریداری ( یا قرض دار ) اپنی طرف سے قیمت میں زیادہ کر دے تو اس کو علماء نے مستحب قرار دیا ہے، اور اس کو خفیہ صدقہ سے تعبیر کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4590