أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْأَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ بَكْرَهُ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: انْطَلِقْ فَابْتَعْ لَهُ بَكْرًا، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: مَا أَصَبْتُ إِلَّا بَكْرًا رَبَاعِيًا خِيَارًا، فَقَالَ: أَعْطِهِ، فَإِنَّ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً.
ابورافع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے اونٹ کے بچے میں بیع سلم کی، وہ شخص اپنے نوجوان اونٹ کا تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے ایک شخص سے کہا : جاؤ، اس کے لیے نوجوان اونٹ خرید دو ، اس نے آپ کے پاس آ کر کہا : مجھے تو سوائے بہترین، رباعی (جو ساتویں برس میں لگ چکا ہو) نوجوان اونٹ کے کوئی نہیں ملا، آپ نے فرمایا : اسے وہی دے دو ، اس لیے کہ بہترین مسلمان وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بہتر ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ٤٣ (المساقاة ٢٢) (١٦٠٠) ، سنن ابی داود/البیوع ١١ (٣٣٤٦) ، سنن الترمذی/البیوع ٧٥ (١٣١٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٢ (٢٢٨٥) ، موطا امام مالک/البیوع ٤٣ (٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٢٥) ، مسند احمد (٦/٣٩٠) ، سنن الدارمی/البیوع ٣١ (٢٦٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4617