أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ.
عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کوئی تابیر (پیوند کاری) ہوجانے کے بعد (کھجور کا) درخت خریدے تو اس کا پھل بائع کا ہوگا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے، اور جو غلام بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع کا ہوگا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ١٥ (١٥٤٣) ، سنن ابی داود/البیوع ٤٤ (٣٤٣٣) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣١ (٢٢١١) ، (تحفة الأشراف : ٦٨١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4636