أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَبَيْعِ الْأَرْضِ لِلْحَرْثِ يَبِيعُ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ، فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِيُّ (ﷺ).
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ سے جفتی کرانے پر اجرت لینے سے، پانی بیچنے اور زمین کو بٹائی پر دینے سے ١ ؎ یعنی آدمی اپنی زمین اور پانی کو بیچ دے تو ان سب سے آپ ﷺ نے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٨ (البیوع ٢٩) (١٥٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس بٹائی سے مراد وہ معاملہ ہے جس میں زمین والا زمین کے کسی خاص حصے کی پیداوار لینا چاہے، کیونکہ آدھے پر بٹائی کا معاملہ آپ ﷺ نے خود اہل خیبر سے کیا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4670