أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): اعْفُ عَنْهُ، فَأَبَى، فَقَالَ: خُذْ الدِّيَةَ، فَأَبَى، قَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، فَإِنَّكَ مِثْلُهُ، فَذَهَبَ فَلُحِقَ الرَّجُلُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَمَرَّ بِي الرَّجُلُ وَهُوَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے آدمی کے قاتل کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا : اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، تو آپ نے فرمایا : دیت لے لو ، اس نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ، اسے قتل کر دو ، تم بھی اسی جیسے ہوجاؤ گے (گناہ میں) ، جب وہ قتل کرنے چلا تو کوئی اس شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، (اگر) اسے قتل کر دو ، تم بھی اسی طرح ہوجاؤ گے ، چناچہ اس نے اسے چھوڑ دیا، تو وہ شخص (یعنی قاتل جسے معاف کیا گیا) میرے پاس سے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے گزرا۔ تخریج دارالدعوہ : قش/الدیات ٣٤ (٢٦٩١) ، (تحفة الأشراف : ٤٥١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4730