أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَتَوْا النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا، رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى.
بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنی ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے۔ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے فلاں کو قتل کیا تھا، آپ نے فرمایا : کسی نفس کا قصور کسی دوسرے نفس پر نہیں ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٨٣٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4835