أخبرنا يوسف بن عيسى قال أنبأنا الفضل بن موسى قال أنبأنا يزيد وهو بن زياد بن أبي الجعد عن جامع بن شداد عن طارق المحاربي أن رجلا قال: يا رسول الله هؤلاء بنو ثعلبة الذين قتلوا فلانا في الجاهلية فخذ لنا بثأرنا فرفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه وهو يقول لا تجني أم على ولد مرتين
طارق محاربی (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا، لہٰذا آپ ہمارا بدلہ دلائیے، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، آپ فرما رہے تھے : کسی ماں کا قصور کسی بیٹے پر نہیں ہوگا ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٩٨٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٦ (٢٦٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4839