أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): حَدٌّ يُعْمَلُ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ صَبَاحًا.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک حد کا نافذ ہونا اہل زمین کے لیے تیس دن بارش ہونے سے بہتر ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحدود ٣ (٢٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٨٨) حم ٢/٣٦٢، ٣٠٢، ٣٠٢ (حسن) لفظ ” أربعین “ کے ساتھ یہ حدیث حسن ہے، ابن ماجہ میں ” أربعین صباحا “ کا لفظ آیا ہے، اور اگلی حدیث میں اربعین لیلة کا لفظ آ رہا ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی بارش عام طور پر رزق میں وسعت اور خوشحالی کا سبب ہوتی ہے، مگر حد کا نفاذ اس بابت زیادہ فائدہ مند ہے اس لیے کہ معاشرہ میں امن و امان کے قیام میں بہت ہی موثر چیز ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن بلفظ أربعين صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4904