أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَخْلَدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ، لَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امانت میں خیانت کرنے والے، علانیہ لوٹ کرلے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ١ ؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) اسے سفیان نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ (اس کی دلیل اگلی سند ہے ) تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٧٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خیانت، اچک لینے اور چھین لینے میں اسی لیے ہاتھ کاٹنا نہیں ہے کہ ان سب کے اندر یہ ممکن ہے کہ ان کو انجام دینے والوں پر آسانی سے اور جلد قابو پایا جاسکتا ہے اور گواہی قائم کی جاسکتی ہے، برخلاف چوری کے، اس لیے کہ چوری کا جرم زیادہ سنگین ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لم يسمعه سفيان من أبي الزبير صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4971