أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَبِي أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي السَّفَرِ.
بسر بن ابی ارطاۃ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : سفر میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٨ (٤٤٠٨) ، سنن الترمذی/الحدود ٢٠ (١٤٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٠١٥) ، مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ترمذی اور مسند احمد میں السفر کی جگہ الغزو ( یعنی : غزوہ ) ہے، لہٰذا اس حدیث میں بھی سفر سے مراد غزو ہوگا، اور غزو مراد لینے کی وجہ سے اس میں اور عبادہ بن صامت (رض) کی مرفوع روایت أقیموا الحدود فی السفر والحضر میں کوئی تعارض باقی نہیں رہے گا۔ یعنی عبادہ (رض) میں وارد لفظ سفر سے عام سفر مراد ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4979