أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْعِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: أَلَا تَغْزُو ؟، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے کہا : کیا آپ جہاد نہیں کریں گے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٢ (٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ٥ (١٦) ، سنن الترمذی/الإیمان ٣ (٢٦٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٤٤) ، مسند احمد (٢/٢٦، ٩٣، ١٢٠، ١٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عبداللہ بن عمر (رض) کا مطلب یہ تھا کہ بنیادی باتوں کو میں تسلیم کرچکا ہوں اور جہاد ان میں سے نہیں ہے، جہاد اسباب و مصالح کی بنیاد پر کسی کسی پر فرض عین ہوتا ہے اور ہر ایک پر فرض نہیں ہوتا۔ یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نعوذ باللہ جہاد فی سبیل اللہ کے منکر تھے، بلکہ آپ تو اپنی زندگی میں دسیوں غزوات میں شریک ہوتے تھے، آپ نے مذکورہ بالا جواب :( ١ ) ارکان اسلام کو بیان کرنے کے لیے اور ( ٢ ) سائل کے سوال کی کیفیت کو سامنے رکھ کردیا تھا، واللہ اعلم بالصواب۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5001