أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) وَلِي جُمَّةٌ، قَالَ: ذُبَابٌ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ، وَهَذَا أَحْسَنُ.
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، میرے سر پر لمبے بال تھے، آپ نے فرمایا : نحوست ہے ، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میری مراد تم نہیں تھے، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٠٥٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5066