أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ، وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ابوقحافہ (رض) کو فتح مکہ کے دن لایا گیا، سفیدی میں ان کا سر اور ڈاڑھی دونوں ثغامہ کی طرح سفید تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢) ، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٣ (٣٦٢٤) ، مسند احمد (٣/٣٠٦، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5076