أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: سَمِعْتُكَرِيمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنْ الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ ؟ قَالَتْ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَلَكِنْ أَكْرَهُ هَذَا لِأَنَّ حِبِّي (ﷺ) كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُتَعْنِي النَّبِيَّ (ﷺ).
کریمہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا : ان سے کسی عورت نے مہندی لگانے کے بارے میں پوچھا تو وہ بولیں : اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن میں اسے اس لیے ناپسند کرتی ہوں کہ میرے محبوب ﷺ اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے یعنی نبی اکرم (ﷺ)۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الترجل ٤ (٤١٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٥٩) ، مسند احمد (٦/١١٧، ٢١٠) (ضعیف) (اس کی راویہ ” کریمہ “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5090