أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسروق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آ کر کہا : میرے سر پر بال بہت کم ہیں، کیا میرے لیے صحیح ہوگا کہ میں اپنے بال میں کچھ بال جوڑ لوں ؟ انہوں نے کہا : نہیں، اس نے کہا : کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے یا کتاب اللہ (قرآن) میں ہے ؟ کہا : نہیں، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ اور اسے کتاب اللہ (قرآن) میں بھی پاتا ہوں …، اور پھر آگے حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٥٨٤) ، مسند احمد (١/٤١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5098