أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ تَشِمُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَا سَمِعْتُهُ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتَهُ ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَا تَشِمْنَ وَلَا تَسْتَوْشِمْنَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) کے پاس ایک عورت لائی گئی جو گودنا گودتی تھی تو انہوں نے کہا : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اس سلسلے میں تم میں سے کسی نے کچھ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : چناچہ میں نے کھڑے ہو کر کہا : امیر المؤمنین ! میں نے سنا ہے۔ انہوں نے کہا : کیا سنا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : (اے عورتو ! ) نہ گودو اور نہ گودواؤ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٨٧ (٥٩٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٠٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5106