أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قال: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی دو رکعت ٢ ؎ یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے (نماز کا وقت) پا لیا ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٨) ، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤١٢) ، مسند احمد ٢/ ٢٨٢، (تحفة الأشراف : ١٣٥٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بعض نسخوں میں اس باب میں ركعة کا لفظ ہے۔ ٢ ؎: اکثر روایتوں میں ہے ایک رکعت پالی۔ ٣ ؎: یعنی اس کی یہ دونوں صلاتیں ادا سمجھی جائیں گی نہ کہ قضاء۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 514