أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي حِمَّانُ، قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ، فَدَعَا نَفَرًا مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ): يَنْهَى عَنِ الذَّهَبِ؟، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عُمَارَةُ أَحْفَظُ مِنْ يَحْيَى، وَحَدِيثُهُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
حمان بیان کرتے ہیں کہ معاویہ (رض) نے حج کیا، اور انصار کے کچھ لوگوں کو کعبے میں بلا کر کہا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو سونا سے منع فرماتے نہیں سنا ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ وہ بولے : اور میں بھی اس کا گواہ ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : عمارہ یحییٰ (یحییٰ بن حمزہ) سے حفظ میں زیادہ پختہ ہیں اور ان کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥١٥٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی یحییٰ بن ابی کثیر اور حمان کے درمیان ابواسحاق کا واسطہ اولیٰ و انسب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5158