أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْعِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُلِصُهَيْبٍ: مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ خَاتَمَ الذَّهَبِ ؟ قَالَ: قَدْ رَآهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ فَلَمْ يَعِبْهُ، قَالَ: مَنْ هُوَ ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ).
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے صہیب (رض) سے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھتا ہوں ؟ انہوں نے کہا : اسے تو انہوں نے بھی دیکھا ہے جو آپ سے بہتر تھے، لیکن اسے معیوب نہیں سمجھا۔ پوچھا : وہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ (ﷺ)۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٩٦١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” عطاء خراسانی “ مدلس اور حافظہ کے کمزور ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث منکر ہے، کیونکہ عطاء خراسانی مدلس ہیں اور عنعنہ کے ساتھ روایت کی ہے، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5163