أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: حَدَّثَنَا، قَال عُثْمَانُ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَانِي حِبِّي (ﷺ) عَنْ ثَلَاثٍ: لَا أَقُولُ نَهَى النَّاسَ، نَهَانِي عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ الْمُفَدَّمَةِ، وَلَا أَقْرَأُ سَاجِدًا وَلَا رَاكِعًا. تَابَعَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب رسول اللہ ﷺ نے تین چیزوں سے منع فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے لوگوں کو منع فرمایا، بلکہ مجھے منع فرمایا : سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشمی لباس پہننے سے، زرد رنگ سے جو چمکیلا اور لال ہو، اور رکوع و سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ١ ؎۔ ضحاک بن عثمان نے داود بن قیس کی متابعت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٠٤٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: قرآن نہ پڑھنے کی بات مرد عورت سب کے لیے عام ہے، بقیہ باتوں میں مخاطب صرف مرد ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5172