أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ أَبُو طَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ ؟، فَطَرَحَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ: مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ ؟، فَطَرَحَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ ؟ قَالَ: مِنْ وَرِقٍ، وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا.
بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، وہ لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں جہنمیوں کا زیور پہنے دیکھ رہا ہوں ؟ یہ سن کر اس نے وہ انگوٹھی پھینک دی۔ پھر پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا : کیا وجہ ہے مجھے تم سے بتوں کی بو محسوس رہی ہے ؟ اس نے وہ انگوٹھی بھی پھینک دی اور بولا : اللہ کے رسول ! پھر کس چیز کی بناؤں ؟ آپ نے فرمایا : چاندی کی، لیکن ایک مثقال سے کم رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : الخاتم ٤ (٤٢٢٣) ، سنن الترمذی/اللباس ٤٣ (١٧٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٩٨٢) ، مسند احمد (٥/٣٥٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو طیبہ “ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں وہم ہوجایا کرتا تھا، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5195