أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ (ﷺ)، يُقَالُ لَهُ: عُبَيْدٌ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) كَانَ يَنْهَى عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ. سُئِلَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنِ الْإِرْفَاهِ ؟ قَالَ: مِنْهُ التَّرَجُّلُ.
عبید نامی ایک صحابی رسول (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارفاہ (بہت زیادہ عیش میں پڑجانے) سے منع فرماتے تھے۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا : ارفاہ کیا ہے ؟ کہا : ارفاہ میں (ہر روز) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٠١١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: لفظ ترجل کا معنی ہر روز کنگھی کرنا اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر : ٥٢٣٨ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5239