أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): غَيِّرُوا، أَوِ اخْضِبُوا.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (ابوبکر کے والد) ابوقحافہ (رض) لائے گئے، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے بالوں کا رنگ بدلو ، یا (فرمایا) خضاب لگاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٨٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5242