أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِمِيقَاتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ عِشَاءِ الْآخِرَةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اس نماز یعنی عشاء آخرہ کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٧ (٤١٩) ، سنن الترمذی/الصلاة ٩ (١٦٦) ، مسند احمد ٤/ ٢٧٠، ٢٧٢، ٢٧٤، سنن الدارمی/الصلاة ١٨ (١٢٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تیسری رات کا چاند دو گھنٹے تک رہتا ہے لہٰذا اگر چھ بجے سورج ڈوبے تو آٹھ بجے عشاء پڑھنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 528