أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْأَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَرَآنِي سَيِّئَ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟، قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ لَكَ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْكَ.
ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا، تو فرمایا : کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے، آپ نے فرمایا : جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٢٢٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : فضول خرچی اور ریاء و نمود کے کے بغیر، اور حیثیت کے مطابق آدمی کے اوپر اچھا لباس ہونا چاہیئے، ہاں۔ اسراف، فضول خرچی اور ریاء و نمود والا لباس ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5294