أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيعِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ: عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ فَقَالَ: سَلْ عَائِشَةَ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَلْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ.
عمران بن حطان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، چناچہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو وہ بولیں : عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھ لو، میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھ سے ابوحفص (عمر) (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے دنیا میں ریشم پہنا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٢٥ (٥٨٣٥) ، (تحفة الٔاشراف : ١٠٥٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ بطور زجر و تہدید ہے، جو صرف مردوں کے لیے حرام ہیں، البتہ سونے چاندی کے برتن، اور ریشمی زین دونوں کے لیے حرام ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5306