أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ سَنَةَ سَبْعٍ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِينِي، فَقُلْتُ لَهَا: هَذَا ابْنُ عُمَرَ:، فَاتَّبَعَتْهُ تَسْأَلُهُ، وَاتَّبَعْتُهَا أَسْمَعُ مَا يَقُولُ، قَالَتْ: أَفْتِنِي فِي الْحَرِيرِ ؟، قَالَ: نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ).
علی بارقی (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا : یہ ابن عمر (رض) ہیں، (ان سے پوچھ لو) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں، وہ بولی : مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے، ابن عمر (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٧٣٥٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5308