أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ (ﷺ) وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ (ﷺ) وَقَالَ: اذْهَبْ فَاطْرَحْهُمَا عَنْكَ، قَالَ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: فِي النَّارِ.
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر نبی اکرم ﷺ غصہ ہوئے اور فرمایا : جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو ۔ وہ بولے : کہاں ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : آگ میں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٤ (٢٠٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چناچہ انہوں نے اسے گھر کے تنور میں ڈال دیا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے آگ میں ڈال دینے کا حکم دیا، ایسا صرف زجر و توبیخ کے لیے تھا، ورنہ اس نوع کا کپڑا عورتوں کے لیے جائز ہے، نیز بیچ کر کے قیمت کا استعمال بھی جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5317