أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا.
خباب بن ارت (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی) شکایت کی، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ١ ؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا : کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے ؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے ؟۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦١٢) ، مناقب الٔةنصار ٢٩ (٣٨٥٢) ، الإکراہ ١ (٦٩٤٣) ، سنن ابی داود/الجہاد ١٠٧ (٢٦٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٥١٩) ، مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٠، ١١١، ٦/٣٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5320