أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ تَصْنَعُ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ ؟ قَالَ: تُرْخِينَهُ شِبْرًا. قَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفَ أَقْدَامُهُنَّ ؟ قَالَ: تُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا لٹکایا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں ، وہ بولیں : تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے ؟ ، آپ نے فرمایا : تو ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہ کریں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٩ (٢٠٨٥) ، سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٢٦) ، مسند احمد (٢/٥، ٥٥، ١٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5336