أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِيُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُصَلِّي إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَخِّرِيهِ عَنِّي، فَنَزَعْتُهُ، فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ١ ؎، چناچہ میں نے اسے گھر کے ایک روشندان میں لٹکا دیا، اور رسول اللہ ﷺ اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر آپ نے فرمایا : عائشہ ! اسے ہٹا دو ، پھر میں نے اسے نکال دیا اور اس کے تکیے بنا دیے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٦٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ بھی تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، یا یہ بھی غیر جاندار چیزوں کے نقش و نگار تھے، لیکن دیواروں یا روشن دانوں پر پردہ اسراف وتبذیر ہے جس کی وجہ سے آپ نے ہٹوا کر بچھونے بنوا دیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5354