أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَمَا تَقُولُ فِيهَا ؟ فَقَالَ: ادْنُهْ، ادْنُهْ، سَمِعْتُ مُحَمَّدًا (ﷺ) يَقُولُ: مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخِهِ.
نضر بن انس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک شخص آیا اور بولا : میں یہ تصویریں بناتا ہوں، آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : قریب آؤ۔ میں نے محمد ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے دنیا میں کوئی صورت بنائی قیامت کے روز اسے حکم ہوگا کہ اس میں روح پھونکے، حالانکہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١٠٤ (٢٢٢٥ تعلیقًا) ، اللباس ٩٧ (٥٩٦٣) ، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١١٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٣٦) ، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٤١، ٣٥٠، ٣٥٩، ٣٦٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5358