أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ: عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا ؟ قَالَ: إِنَّكُمْسَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ.
اسید بن حضیر (رض) سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : کیا آپ مجھے کام نہیں دیں گے جیسے فلاں کو دیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرے بعد تم پاؤ گے کہ ترجیحات ١ ؎ ہوں گی ایسے حالات میں تم صبر سے کام لینا یہاں تک کہ حوض پر تم مجھ سے ملو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الٔعنصار ٨ (٣٧٩٢) ، الفتن ٢ (٧٠٥٧) ، صحیح مسلم/الإمارة ١١ (١٨٤٥) ، سنن الترمذی/الفتن ٢٥ (٢١٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨) ، مسند احمد (٤/٣٥١، ٣٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مستحق اور اہلیت والے کو محروم کر کے نالائق کو کام پر رکھنا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5383