أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُقَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ أَمِّرِ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَنَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ سورة الحجرات آية 1 - 5.
عبداللہ بن زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے کچھ سوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، ابوبکر (رض) نے کہا : قعقاع بن معبد کو سردار بنائیے، اور عمر (رض) نے کہا : اقرع بن حابس کو سردار بنائیے، پھر دونوں میں بحث و تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوگئی، تو اس سلسلے میں یہ حکم نازل ہوا اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے آگے مت بڑھو (یعنی ان سے پہلے اپنی رائے مت پیش کرو) یہاں تک کہ یہ آیت اس مضمون پر ختم ہوگئی : اگر وہ لوگ تمہارے باہر نکلنے تک صبر کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٦٨ (٤٣٦٧) ، تفسیر سورة الحجرات ١ (٤٨٤٥) ، ٢ (٤٨٤٧) ، الاعتصام ٥ (٧٣٠٢) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجرات (٣٢٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی بحث و تکرار کے سبب ابتداء سورة سے أجر عظیم تک ٣ آیتیں نازل ہوئیں، اور آیت : ولو أنهم صبروا حتى تخرج إليهم لکان خيرا لهم اقرع بن حابس (رض) کے آپ ﷺ کو زور زور سے یا محمد اخرج کہنے کی وجہ سے نازل ہوئی، ان میں سے اقرع شاعر تھے، یہی بات باب سے مناسبت ہے، یعنی : کسی شاعر ہونے کے سبب اس کو کسی عہدہ سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5386