أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ ؟.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : میرے والد کافی بوڑھے ہیں، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کافی ہوتا یا نہیں ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٣٨٩) (شاذ ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5396