أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قال: سُئِلَ أَنَسٌ: هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ (ﷺ) خَاتَمًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَنْ صَلَّى أَقْبَلَ النَّبِيُّ (ﷺ) عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا. قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ.
حمید کہتے ہیں : انس (رض) سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم ﷺ نے انگوٹھی پہنی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، ایک رات آپ نے آدھی رات کے قریب تک عشاء مؤخر کی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا : جب تک تم لوگ نماز کا انتظار کرتے رہے برابر نماز میں رہے ۔ انس کہتے ہیں : گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث إسماعیل عن حمید أخرجہ : صحیح البخاری/المواقیت ٢٥ (٥٧٢) ، الأذان ٣٦ (٦٦١) ، ١٥٦ (٨٤٧) ، اللباس ٤٨ (٥٨٦٩) ، وقد أخرجہ : (تحفة الأشراف : ٥٧٨) ، مسند احمد ٣/١٨٢، ١٨٩، ٢٠٠، ٢٦٧، وحدیث خالد عن حمید أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الصلاة ٨ (٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٥) (صحیح) علی بن حجر کی روایت میں ” إلی قریب من شطرا للیل “ کے بجائے ” إلی شطر اللیل “ ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 539