أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنُ يَحْيَى، أَنَّ شُتَيْرَ بْنَ شَكَلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ: قُلْ: أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَشَرِّ بَصَرِي، وَشَرِّ لِسَانِي، وَشَرِّ قَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي، قَالَ حَتَّى حَفِظْتُهَا. قَالَ سَعْدٌ: وَالْمَنِيُّ مَاؤُهُ.
شکل بن حمید (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! مجھے کوئی ایسا تعوذ (شر و فساد سے بھاگ کر اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا) بتائیے، جس کے ذریعہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگوں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : کہو : أعوذ بک من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، اپنی آنکھ کی برائی سے، اپنی زبان کی برائی سے، اپنے دل کی برائی سے، اپنی منی کی برائی سے ، شکل کہتے ہیں : یہاں تک کہ میں نے اسے یاد کرلیا۔ سعد کہتے ہیں : منی سے مراد نطفہ (پانی) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٥١) ، سنن الترمذی/الدعوات ٧٥ (٣٤٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٤٧) ، مسند احمد (٣/٤٢٩) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٥٤٥٧، ٥٤٥٨، ٥٤٨٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5444