أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، يُقَالُ لَهَا: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، قَالَ: وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرِ ؟، قُلْتُ: شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں بتع اور مزر کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا : بتع کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور مزر جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٦٠ (٤٣٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٩٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5604